حیرت مری طینت میں ہے تخمیر ازل سے
میں آئینہ ساں دیدۂ بیمار ہوا ہوں
آلودگی دیر سے دامن ہئ مرا پاک
ہے بادہْ کوثر سے مرے خاک کی تخمیر
تواے فعل میں تقدیر انفعال بھی ہے
ہر انجذاب میں تخمیر انصال بھی ہے
بطفیل رحمت کژیر ذات تقدس تخمیر اپنی کے بند اس سعادتمند سے رہا کیجئے.
(۱۸۵۵، غزوات حیدری ، ۲۰۵)
کالبدان کے ہوئے صندل ر گل سے تخمیر
الغرض ہوتی رہی ذوق نظر کی تسکین
(۱۹۷۴، برگ خزاں ،۱۶۶)
میدے کی روٹی تخمیر کے باوجود اتنی مفید نہیں ہوتی جتنی کہ سالم گیہوں کے آٹے کی بنی ہوئی روٹی.
(۱۹۴۱، ہماری غذا ، ۶۶)
اس تدبیر کو دلہائے ناپاک میں تخمیر کر کے فکر سازو سامان جنگ میں بیٹھے.
(۱۸۵۵، غزوات حیدری ، ۴۴۵)
غنیم نے جویہ تقریر وحشت تخمیر سنی تو سخت گھبرایا.
(۱۹۰۱، الف لیلہ ،سرشار ،۳۸۲)
اف : آٹھنا ،اٹھانا ،کرنا ، ہونا .
-