چوتھا تن عارف الوجود، اسے جبرائیل دینے ہارا، اوسو (اس کو) نورانی تن محمد کا بولتے ہیں.
۱۴۲۱، بندہ نواز، معراج العاشقین، ۱۹
جہاں وہ ہے واں جبریل امیں
اُڑے حشر تک تو پہنچتا نہیں
جواب دیا جبرائیل دنیا ایک گھر ہے کہ کسی کا گھر نہیں اور ایسا مال ہے کہ کسی کی ملکیت نہیں، اسے وہ جمع کرتا ہے جس میں عقل نہ ہو.
(۱۹۷۳، قصیدۃ البردہ (ترجمہ)، ۸۶)