ہوا شبدیز فلک سیر پہ دولھا جو سوار
روز نے صدقے کیا اشہب و شب نے ادہم
جس طرح حضور اور اشہب . . . پر سوار ہوتے ہیں .
( ۱۹۳۳ ، اودھ ، پنج ، لکھنؤ ، ۱۷۸ ، ۲۸ : ۶ )
اشہب تیز گام زبان . . . زبان جولا نگاہ بیان میں اس کے عاجز .
( ۱۸۴۵ ، حکایت سخن سنج ، ۱۰۲ )
موّحد ہوں مرا سر غیر کے آغے نہ خم ہوگا
قسم ہے اشہب توحید کی محشر خرامی کی