یہ حسن کبھی شمع کے شعلے میں نہ دیکھا
جو سر پہ ترے طرۂ زریں نمکین ہے
ماں باپ اولاد کی کیا پرداخت کریں گے جو انہوں نے رعیت کی پرداخت کی.
(۱۸۹۹، رویاے ساقہ ، ۷۶)
ایسے کھانے سے بہتر نہ کھانا جو دوسرے نام رکھیں.
(۱۹۰۸، صبح زندگی ، ۴۷)
میں نے لوگوں سے یوں سنا ہے جو ہند میں راگ خوب ہوتا ہے .
(۱۸۰۲، نقلیات ۷۴)
اس مزے سے سارے گھر کی درستی اور لڑکے کو سیدھا کرلوں کی جو سانپ مرے نہ لاٹھی ٹوٹے .
(۱۹۱۱، قصہ مہر افروز ، ۳۵)