رکم نے دس کروڑ روپے ایک بار لگائے سو بلرام جی نے جیوں جیت کے اٹھائے تیوں سب دھاندلی کر بولے رکم کا پانسہ پڑا تم کیوں اُٹھاتے ہو .
( ۱۸۰۳، پریم ساگر ، ۱۵۱ ).
انھوں نے دلائل اور برہان کے مقابلہ میں صرف مکابرہ (دھاندھلی) کرنے کو اپنا شیوہ بنا لیا .
( ۱۹۵۶، مناظر احسن گیلانی ، عبقاب ، ۲۸۹ ).