بنت گرد اس کے نہ کیونکر پھرے
کہ واں گوکھر و لہر کھا کر گرے
مجھے یاد نہیں پڑتا کہ میں نے کبھی بنت کی ٹوپی بھی پہنی ہو
(۱۸۷۴ ، مجالس النساء ، ۲ : ۲۲)
مغلانیاں جوڑے سی رہی ہیں ، کوئی چمپا ٹانک رہی ہے ، کوئی بنت بنارہی ہے۔
(۱۹۳۵ ، بیگمات شاہان اودھ ، ۴۰)
عجب معمار زینت نے دکھایا حسن افشاں کا
بنائی کشتی زیبندہ بنت سے طاق ابرو میں