بسنت باس چن چن کے چنری بندھے
جوا بھر کے لہراں سوں آیا بسنت
جوے کیا کروگی ، پوری گٹھی لو اور ایک گٹھی ،پیاز کی.
(۱۹۰۸، صبح زندگی ، ۱۳۸)
انگرکھا نہری کمر توئی کا ، ہر کلی پر جوے بنے ہوئے.
(۱۹۲۵، تجلیات ، ۲ : ۴۷)
ایک اور باب ہوتا ہے ... وہ بھی ... بیٹھ کر جوے سے بجائے ہیں.
(۱۸۷۵، سرمایۂ عشرت ، ۲۸۳)
ریاض چھوٹا ہوا ہے پھر بھی جوے کی تیاری ... بلا کی ہے.
(۱۹۵۴، اپنی موج میں، ۱۶۰)