تقریب ہم نے ڈالی ہے اس سے جوے کی اب
جو بن پڑے ہے ٹک تو ہمارا ہی داؤ ہے
مجھ کو ان کی ایک ہی بات کھٹکتی ہے کہ بازی بد کر گھڑ دوڑ کی لت ہے جو ایک قسم کا جوا.
(۱۸۰۱، ایامیٰ ۲۰)
پھرتا ہوں میں یے دل مرا دل کیوں نہیں دیتے
کیا تم سے جوا کھیل کے میں بار گیا ہوں