اگر بچہ چاق ہے تو کون کہ مشیمہ کی طرف کو سوتتے ہیں .
(۱۸۹۲ ، میڈیکل جیورس پروڈنس ، (ترجمہ) ، ۲۰۰ ) .
فلک کج روکے ہت مہ کمان چاق دستا ہے
قضا کا تیرے کر بہت ہنر میں طاق دستا ہے
دین کے کاموں سیں مرا یہ نفس کافر ہے سست
پر جو کہیں دیکھے ہے امرد کوں تو ہو جاتا ہے چاق
میری طبیعت بھی کسی قدر علیل ہوگئی تھی ، اب اچھی ہے گو کہ بالکل چاق نہیں ۔
( ۱۸۹۳ ، خطوط سر سید ، ۲۵۳ ) .
ہوائے خنک نے دماغ پریشاں کو چاق کیا ۔
(۱۹۱۵ ، گلدستۂ پنچ ، ۱۸۵ ) .
بالا قد و قوی تن و چالاک و چست و چاق
وہ شان وہ شکوہ وہ شوکت وہ طمطراق
پیشوائی کو بتان سیم ساق
محو بازی شاہدان چست و چاق
اسی ٹھار آشہ کماں چاق کر
چلایا لگا تیر تس گھانٹ پر
فرشتے پکڑ باگ دوڑان براق
کھڑے لائے طیار کر ہوئے چاق
تیرے نغمے ترے مضموں ہیں یہ شہ نائے قلم
دم کشی پر ہے سردست کمر بستہ و چاق
ہے گیان ونتی گن بھری ہر بات میں بھی ہوئی ہے
بھی ہے قبول صورت ٹک یک ہیگی جوئی میں بھی چاق
ناتوانی کے سبب کپڑے بدن پر ہیں درست
چاک سینہ ہو جو سودائے دل اپنا چاق ہو
گر نمک کچھ چاق یا کم ہوگیا
پھر تو برپا شور ماتم ہوگیا