موئے اس رشک میں ہم تو کہ جو ہے کے کوچے میں
پریشان بے سروپسا غمزدہ آوارہ حیسراں
خبر لے پیر کنعاں کی کہ کچھ آج نپٹ آوارہ بوئے پیرہن ہے.
(۱۸۱۰ ، میر ، ک ، ۲۸۶)
سامان عیش سب کا سب آوارہ ہوگیا
نوبت سحر کی کوچ کا نقارہ ہوگیا
وہ بھی ہوتی چلی آوارہ تازہ تازہ ہے سوق نظارہ.
(۱۸۵۱ ، مومن ، ک ، ۲۲۹)
دیکھتی ہو اس آوارہ بدمعاش کو .
(۱۹۶۱ ، ھالہ ، اے-آر-خاتون ، ۲۲۹)
بہوت دیس سیں گھرتے آوارہ ہیں
پریشاں و دل تنگ و بے چارہ ہیں
پڑا ہے اس میں وہ بے جاں وطن سے ہو کر آوارہ
کہ جس کو فاطمہ نے پر میں پیغمبر کے پلوایا
جس طرح صحرائے افریقہ کا آوارہ کوئی
یا عرب کیمنزلوں کا جس طرح مارا کوئی
(۱۹۱۰ ، جذبات نادر ، ۱۵۴)
ایک اور دلان بے چھت سہ درہ آوارہ پڑا ہے.
(۱۸۶۴ ، تحقیقات چشتی ، ۶۷۴)
یکٹ جائے گا شہر کو شاہ کیوں
حشم بن چلے گا سو آوارہ کیوں