تن سب ہوتا سُن ، ہات چلتا ہور مارنیچہ کی رہتی دُھن .
(۱۶۳۵، سب رس ، ۱۹۲)
اِک طرف اصغر کوں پھر دیکھے تھی آ
دُودھ بن سُن جُھولے کے درمیان ہے
ہوا ہوں فرطِ اذیّت سے مَیں تو سُن اے میر
تمیزِ رن٘ج و خیالِ نشاط مجھ کو نہیں
میری ٹان٘گیں سُن ہونے لگیں.
(۱۸۷۷، توبۃ النصوح ، ۸۰)
اس کے کاٹتے ہی انسان کے حواس اور قوّتِ گویائی پر اثر پڑتا ہے ، جسم سُن ہونے اور جمنے لگتا ہے.
(۱۹۵۴، حیواناتِ قرآنی ، ۴۶)
ان کے ہاتھ پتّھروں کے بوجھ سے سُن ہو رہے تھے.
(۱۹۸۷، افکار، کراچی ، جولائی ، ۵۲)
کہ بی بی یوں ترا کہتا ہے دِلبر
زلیخا سُن ہوئی یہ بات سُن کر
فقیر اس کو دیکھ کر اور یہ بات سُن کر سُن ہوا .
(۱۸۰۲، باغ و بہار ، ۲۵)
ملکہ اس واقعے کو سُن کر سُن ہو گئی دان٘توں میں اُنگلی دبائے کہنے لگی کہ ... بیٹھے بِٹھائے اچّھا سودا لیا دیکھیں کی قِسمت دکھاتی ہے.
(۱۸۹۶، لعل نامہ ، ۱ : ۳۳۱)
نغمے کے ہر ایک سُر پہ سَر دُھنتا ہوں
سُن ہو کے گلِ گلشنِ ہو چُنتا ہوں
اور سُنتے ہی دونوں سُن ہو گئے تھے.
(۱۹۸۶، جوالامُکھ ، ۳۳).
جب اُن سے کہیے تو مُنہ بگاڑ کر سُن ہو جاتے ہیں.
(۱۸۲۲ ، نصیحت المسلمین (ق) ، ۱۷)
شوق اس کی گالیوں سے گئے سُن اہلِ بزم
کوئی گُون٘گا بن گیا اور کوئی بہرا ہو گیا
یہ گروہ علم و اشیا کو سُن کہتے ہیں ... اور ان کے ہست و نیست کا یقین نہیں کرتے.
(۱۹۳۹، آئینِ اکبری (ترجمہ) ، ۲ : ۱۸۶)