سخن گل کا تیر جگر دوز تھا
اسے وعدہ جنگ امروز تھا
نامہ دل نے کیا سینہ ہمارا غربال
کون کہتا ہے کہ یہ تیر جگر دوز نہیں
درد آمیز سنے ہیں جو تمہارے اشعار
عشق کا تیر جگر دوز کلیجے کے ہے بار
ان غریبوں کی کیونکر بسر ہوئی یہ خیال ہی جگر دوز تھا
(۱۹۳۵، دودھ کی قمیت ۷۹)