سُننا (رک) کا مادہ اور صیغۂ امر (محاورات میں مُستعمل).
سُن تو سہی جہاں میں ہے تیرا فسانہ کیا
کہتی ہے تجھ کو خلقِ خدا غائبانہ کیا
(۱۸۴۶، آتش ، ک ، ۵)
سُن نامہ رساں میری حقیقت
مانگے جو جوابِ خط قسمت
(۱۸۹۹، شاد لکھنوی ، مثنوی عبد مذنب ، ۱)
ارے سُن سُن : اونا سوت کے رہنے والے محسوسات و نظریات کے پندوں کے قیدی.
(۱۹۱۹، آپ بیتی ، خواجہ حسن نظامی ، ۱۳۵)
اہم اطلاع
اردو لغت بائیس ہزار صفحوں پر مشتمل ، دو لاکھ چونسٹھ ہزار الفاظ کا ذخیرہ ہے . اسے اردو زبان کے جیّد اساتذہ نے 52 سال کی عرق ریزی سے مرتب کیا ہے .
زیر نظر ویب سائٹ انسانی کاوش ہے لہذہ اغلاط کے امکانات سے مبرا نہيں ، آپ سے التماس ہے کہ اغلاط کی نشان دہی میں ہماری معاونت فرمائیں .
نشان دہی کے لیے ہماری ویب سائٹ پر رابطہ کے ان باکس میں اپنی رائے سے آگاہ کریں .