کہیا رات دن جا تلاوے کرو
نہ سن٘گ جا لڑو ہور ہلاوے کرو
خُدا کی محبت سوں دل جوڑویں
دیا سن٘گ ساریاں کیرا چھوڑویں
یہ ننگ و نام مبارک رہے تُجھے اے شیخ
مجھے نہ ننگ سے ہے سنگ کُچھ نہ نام سے کام
لڑکیوں کے سنگ گیند بلاّ کھیلتی ہے
(۱۹۱۴ ، راج دلاری ، ۳).
پڑیا ہے مرے سنگ ایسا کو سنگ
نہ یو سنگ ہے بلکہ سینے پہ سنگ
سب بچھڑے کوئی سنگ نہ ساتھی
عزیزوں کو اپنے میں پاؤں کہاں
سنگ نہ ساتھی اکیلی جان اللہ نگہبان.
(۱۹۰۸ ، صبحِ زندگی ، ۸۸).
میرے نزدیک آئیڈیل شریکِ حیات وہ ہے ۔۔۔ جس کے سنگ زندگی کا سفر حسین اور خوشگوار گُزرے.
(۱۹۸۹ ، جنگ ، کراچی ، ۲۰ جنوری ، ۱۱۱).
پتّھر صاف شفّاف جن کے سنگ کا فرسنگوں نظر نہ آئے.
(۱۸۲۴ ، فسانۂ عجائب ، ۱۴).
جب حضرت سخی سرور کا سنگ جاتا ہے تو ایک رات یہاں مقام کرتا ہے.
(۱۸۶۴ ، تحقیقاتِ ، چشتی ، ۱۲۵۷).
سنگ کے لفظی معنی سفر کے ہمراہی ہیں.
(۱۹۶۲ ، حکایاتِ پنجاب (ترجمہ) ، ۱ : ۸۳).