نہ بہن سے کچھ سلوک کیا نہ خالی خط لکھا .
(۱۸۰۲ ، باغ و بہار ، ۲۲) .
مجھ سے کھول کر کہو کہ مجھ سے کیا سلوک کرو گے اور اس کی خرچی کیا دو گے .
(۱۸۴۵ ، حکایات سخن سنج ، ۸۱) ۔
مولوی صاحب مرحوم اپنے دوستوں اور عزیز و اقربا سے بھی بہت سلوک کرتے تھے .
(۱۹۳۵ ، چند ہمعصر ، ۴۲) ۔
پھر یہ تو دیکھنا ہی ہوتا ہے کہ کس نے کتنی رقم کا سلوک کیا تھا .
(۱۹۸۱ ، چلتا مسافر ، ۳۴) ۔
اسی طرح سے ، گر سبھی جانور
کریں گے سلوک اس جگہ آن کر
غرض اوکسجن گو لوہے کی طرح جلدی اور تیزی سے تو پٹڑیوں پر زنگ نہیں لگاتی مگر توقف کے ساتھ یہ سلوک کرتی ہے .
(۱۹۷۵ ، جغرافیۂ طبیعی ، ۱ : ۵۷) ۔