گنوا بات تے نقد کوں ایک بار
کیا جا کچی بُد سو سودا اُودھار
ہندوے زُلفِ پری رُو پریشانی فروشی
بیچ دیوے مُجھ کوں سودے میں اگر سودا کروں
ایک چشمک ہی چلی جاتی ہے ، گُل سے میری اور
یعنی بازارِ جنوں میں جاؤں کُچھ سودا کروں
ہجور بڑا سودا کرتے ہیں پیشگی بارہ دے دئے جھپاک سے.
(۱۸۹۴ ، ہشو ، ۱۵)۔
کاروباری آدمی کی طرح اس طرح سودا کرنا کہ پسینہ آجائے مُجھے نہیں آتا۔
(۱۹۴۲ ، مکتوباتِ عبدالحق ، ۲۴۸)۔
وہ ایک ایسی بزنس کی شوقین لڑکی سے نفع یا نقصان کا سودا کرنے کی خاطر تیّار ہو گیا تھا۔
(۱۹۸۷ ، کُچھ نئے اور پُرانے افسانہ نگار ، ۱۳۵)۔
اے نگوڑی کیا پِھرے گی ہو کے تُو ننگے گلے
بن نہ سودائی اری سودا نہ کر زنجیر کا
آرام و آسائش حاصل کرنے کے لئے دِین و ایمان کا سودا کر بیٹھے گا۔
(۱۹۸۵ ، روشنی ، ۲۶۰).