۱. کِسی چیز پر اصلی رن٘گ سے مُختلف رن٘گ کا نِشان ، دھبَا.
ہے مون کا رن٘گ یکسان جو وو سِتلا کے یک دو داغ سوں
نیلم جڑے سُنّے پہ پن دستا ہے کندن سوں سرس
(۱۶۹۷، ہاشمی ، د ، ۹۰).
ماہ کے سِینے اُپر اے شمع رُو
داغ ہے تُجھ حُسن کی جھلکار کا
(۱۷۰۷، ولی ، ک ، ۱۸)
دل نہیں ، تُجھ کو دِکھاتا ورنہ داغوں کی بہار
اِس چراغاں کا ، کروں کیا ، کار فرما جل گیا
(۱۸۶۹، غالب ، د ، ۱۵۱).
اِسکرٹ پر چکنائی کے داغ تھے.
(۱۹۸۳، سفر مِینا ، ۵۱).
۲. گھاؤ یا زخم جو پُوری طرح اچَھا نہ ہوا ہو، زخم اچھا ہونے بعد کا نِشان.
خبر دی شہ کے مِلنے کی تو جلنا ٹک ٹھنڈ یک پکڑأ
ارے ہت بول یو تیرا مُنجے جیوں داغ پر بھایا
(۱۶۷۲، عبداللہ قطب شاہ ، د ، ۸۷).
غُنچہ ہوں میں نہ گُل کانَے گُل ہوں میں چمن کا
حسرت کا زخم ہوں میں اور داغ آرزو کا
(۱۷۸۶، میر حسن ، د ، ۶).
نَے خون ہو آنکھوں سے بہا ٹُک نہ ہوا داغ
اپنا تو یہ دل میر کِسو کام نہ آیا
(۱۸۱۰، میر ، ک ، ۱۰۷)
شگفتہ رہ مرے سینہ میں تا ابد اے داغ
بہار اپنی دِکھا گُلشنِ ارم کی طرح
(۱۹۲۷، شاد عظیم آبادی ، میخانۂ الہام ، ۱۴۴).
۳. صدمہ ، رنج و غم ؛ کسی عزیز کے مرنے کا غم ، صدمہ.
اگر ہوے رضا تو یو دل شاد اچھے
نہیں تو مرے دل پہ سو داغ اچھے
(۱۶۰۹، قطب مشتری (ضمیہ) ، ۶).
تازے کِھلے ہیں داغ کے گُل دِل کے باغ میں
پھر موسمِ بہار ہوا ، کیا بجا ہوا
(۱۷۳۹، کلیاتِ سراج ، ۱۴۱).
مرنے کا غم نہیں یہ مگر داغ ہے مجھے
دامن سے اُس نے میرے لہو کے چھوڑائے داغ
(۱۸۱۶، دیوانِ ناسخ ، ۱ : ۴۵).
ہزار حیف کہ کُنجِ قفس میں اے صیّاد
تڑپ کے مر گئی بُلبل بھی داغ میں گُل کے
(۱۸۳۸، نصیر دہلوی ، چمنستانِ سخن ، ۱۹۴).
میرا دوست بہت رویا تھا - میرے دِل پر بھائی کے غم کا داغ نہیں تھا.
(۱۹۸۳، بے نام ، ۸۴).
۴. حسد ، جلن.
ایسوں کے اُپر روا رکھا داغ ، فلک
جِس داغ سُوں لالے کا جگر پُر خُوں ہے
(۱۷۰۷، ولی ، ک ، ۲۷۰).
وہ رُخسارے کہ جِس سے ماہ کو داغ
ہزاروں گُل لُٹائے بُلبُلِ باغ
(۱۸۶۲، طلسمِ شایاں ، ۱۵).
۵. عیب ، بُرائی ، بدنامی یا رُسوائی ، الزام ، دھبَا (بسلسلۂ رسوائی و بدنامی).
دُرد پی لیتے ہیں اور داغ بچا جاتے ہیں
یاں بلا نوش ہیں جو آئے چڑھا جاتے ہیں
(۱۷۹۵، قائم ، د ، ۱۱۷).
بے وفائی کا داغ کیسا ہے
ہم نے مانا کہ ماہِ طلعت ہو
(۱۸۶۱، دیوانِ ناظم ، ۱۳۲).
بدنامی کا جو داغ ایک بار ہمارے ماتھوں پر لگ گیا ہے اُسے نہیں دھو سکتے.
(۱۹۷۵، خاک نشیں ، ۴۳).
۶. (i) نِشان جو لوہا وغیرہ گرم کر کے شاہی اصطبل کے گھوڑوں ، غلاموں اور فوجی سپاہوں وغیرہ کے لگائے جاتے تھے ؛ گھوڑوں وغیرہ کے داغنے کا عمل.
ہر فوجی صدر مقام کے مُتعلق بڑے بڑے اصطبل ہوتے تھے جِن میں چار چار ہزار گھوڑے ہر وقت تیار رہتے تھے ... داغ کا طریقہ بھی رائج تھا.
(۱۸۹۹، مقالاتِ شروانی ، ۴۲).
اکبر (مُغل بادشاہ) نے ... ہر سپاہی کا حُلیہ فوج کے کاغذات میں درج کرایا گھوڑوں پر سرکاری داغ ڈلوائے.
(۱۹۶۷، اردو دائرۂ معارفِ اسلامیہ ، ۳ : ۴۷).
(ii) وہ دفتر جہاں گھوڑوں وغیرہ کو داغا جائے.
جب سوار داغ و محلہ پر حاضر کرے گا تو جاگیر تنخواہ کے لائق پائے گا.
(۱۸۸۳، دربارِاکبری ، ۳۵۹).
سُرخ رن٘گ کے ڈیرے کچھہری بخشیگری اور دِیوانی ، داغ و تصحیح و خزانہ کے تیّار کر کے اپنے خیمے کے پاس کھڑے کیے جائیں.
(۱۹۰۶، حیاتِ ماہ لقا ، ۱۲).
۷. کِھچڑی ، پلاؤ یا کِھیر وغیرہ کے پکانے میں ہان٘ڈی کے پین٘دے میں کُھرچن لگنے کا ہلکا سا مزا یا بُو.
جو سون٘دھ پن اور داغ کا مزا اُن کی کِھیر میں آتا ہے کسی اور کے ہاں نہیں آتا.
(۱۹۶۲، ساقی ، کراچی ، جولائی ، ۴۸).
۸. بگھار، پیاز ڈال کر کڑ کڑایا ہوا گھی.
ایک کٹورے میں داغ ہوتا یعنی پیاز ڈال کر کڑ کڑایا ہوا خالص گھی ایک رکابی میں ہری مِرچیں ہرا دھنیا ، ادرک ... ہوتا.
(۱۹۶۲، ساقی ، کراچی ، جولائی ، ۵۱).
۹. چیچک کے نِشان.
چیچک کے داغ اُوس رخِ تاباں پہ دیکھ لو
تارے کِھلے نہ دیکھے ہوں گر آفتاب میں
(۱۸۷۹، دیوان عیش (حکیم آغا جان دہلوی) ، ۱۲۶).
داغِ چیچک نہ اِس اِفراط سے تھے مُکھڑے پر
کِن نے گاڑی ہیں نگاہیں ترے رُخسار کے بِیچ
(۱۸۱۰، میر، ک ، ۴۱۴).
۱۰. وہ نِشان جو پھل پر پڑ جائے.
خوبانیاں درمیانہ سائز کی ہونی چاہیں اور اُن پر گلے سڑے داغ ... نہیں ہونے چاہیں.
(۱۹۷۰، گھریلو انسائیکلوپیڈیا ، ۴۴۳).
۱۱. مہا سے کا نِشان.
پہلے میں خوبصورت تھا مگر اب دانوں اور داغوں سے بھرا چہرہ ... سُرخ ہو جاتا ہے.
(۱۹۸۶، جنگ ، کراچی ، ۲۲ اگست ، ۴).
۱۲. دِل کا زخم ؛ جُدائی کا صدمہ.
جو داغ کہ مُہر ہے فلک پر
دِل میں میرے اب تلک نہاں ہے
(۱۸۳۸، مثنوی گُلزارِ نسیم ، ۲۴).
جلتے دیکھا ہے کبھی ہستی کے دِل کا تُو نے داغ
آنچ سے جِس کی غِذا پاتا ہے شاعر کا دماغ
(۱۹۲۴، فکر و نشاط ، ۹).
دِل کے پُورب سے اُبھرتا ہے جھلکتا ہوا داغ
چان٘دنی شامِ غریباں میں سمو دیتا ہے
(۱۹۸۰، شہرِ سدا رنگ ، ۲۸).
[ف].
اہم اطلاع
اردو لغت بائیس ہزار صفحوں پر مشتمل ، دو لاکھ چونسٹھ ہزار الفاظ کا ذخیرہ ہے . اسے اردو زبان کے جیّد اساتذہ نے 52 سال کی عرق ریزی سے مرتب کیا ہے .
زیر نظر ویب سائٹ انسانی کاوش ہے لہذہ اغلاط کے امکانات سے مبرا نہيں ، آپ سے التماس ہے کہ اغلاط کی نشان دہی میں ہماری معاونت فرمائیں .
نشان دہی کے لیے ہماری ویب سائٹ پر رابطہ کے ان باکس میں اپنی رائے سے آگاہ کریں .