جو چاہے روشنیؑ دل تو داغِ عشق اُٹھا
کہ گھر وہ تِیرہ ہے جس میں کہ تابدان نہیں
روزِ مولود سے ، ساتھ اپنے ہوا غم پیدا
لالہ ساں داغ اُٹھانے کو ہوئے ہم پیدا
المختصر وہ عالم باعمل تھے ، دس بارہ پلے پلائے بچَوں کے علاہ ایک جوان بیٹے اور ایک چہیتی بہو کا داغ اُٹھایا. پھر بھی خدمتِ خلق سے من٘ھ نہ موڑا.
(۱۹۸۳، نایاب ہیں ہم ، ۲۵).