تھوڈی پر خوی تو نیں ہے پرت کے راز نیناں کے
وو حرفاں ہیں جو دستے ہیں اُسی سیبِ ذقن کاغذ
اے دل نہ چاہ چاہِ زنخداں کو شوخ کے
آسیب لکھوں اسکے ہیں سیبِ ذقن کے بِیچ
نقش لکھ لکھ کے شجر میں باندھے
پر نہ وہ سیبِ ذقن ہاتھ آیا
کبھی تو بوسۂ سیبِ ذقن عنایت ہو
نپال عیش کو اک دن تو بارور دیکھیں