ا. جنم دینے والا ، باپ ، بابا ، نیز اس کو خطاب کرنے کا کلمہ .
کہا کرتا تھا مجنوں بچپنے میں اپنے والد سے
دکھا لاؤ ہمیں ابّا الف چاک گر یباں کا
( ۱۸۹۹ ، دیوانجی ، ظریف ، ۴ )
آپ خدا بخشے ابّا کے ملنے والے ہیں ، میرے بزرگ ہیں .
( ۱۹۵۴ ، پیر نا بالغ ، ۶۴ )
۲. چچا ، ماموں وغیرہ الفاظ کے بعد تعظیم کے طور پر ، گویا باپ کے مرتبے میں ، جیسے : نانا ابّا ، دادا ابّا ، (رک) .
۳. (i) (مجازاً) خسر ، مخدوم ، آقا یا بزرگ وغیرہ جس سے کوئی تعلق ہو (عظمت یا قربت کے اظہار کے لیے) ، جیسے : بی بی کے باپ سے ابّا کہہ کر تخاطب .
(ii) کسی بزرگ کے وصفی نام کے ساتھ بطور تعظیم .
بڑا ہوگا تو کہے گا مولانا ابّا پر پیشاب کر چکا ہے .
( ۱۹۴۲ ، گنج ہائے گراں مایہ ، ۳۰ )
(iii) گاہے طنزاً جیسے : بڑا آیا کہیں سے شیطان کا ابّا (رک : شیطان کا ابا).
[ ع : اب (ا) (رک) یا ا : اے + بابا کی تخفیف ]
اہم اطلاع
اردو لغت بائیس ہزار صفحوں پر مشتمل ، دو لاکھ چونسٹھ ہزار الفاظ کا ذخیرہ ہے . اسے اردو زبان کے جیّد اساتذہ نے 52 سال کی عرق ریزی سے مرتب کیا ہے .
زیر نظر ویب سائٹ انسانی کاوش ہے لہذہ اغلاط کے امکانات سے مبرا نہيں ، آپ سے التماس ہے کہ اغلاط کی نشان دہی میں ہماری معاونت فرمائیں .
نشان دہی کے لیے ہماری ویب سائٹ پر رابطہ کے ان باکس میں اپنی رائے سے آگاہ کریں .