آواز آئی کہ اچھا ابّا جانی لائی .
نمناک چشم ہو کے لگی کہنے نیک خو
ابّا جی تم کو جانے نہیں دیں گے ہم کبھو
کوئی نہیں ہے جاں سے گذرنے کے واسطے
ابا حضور جاتے ہیں مرنے کے واسطے
اس زمانے میں ان کے باپ اب جان مشہور ہوئے .
میں نے ابا میاں کی اچکن پہنی ، صافہ باندھا اور لکڑی ہاتھ میں لے باہر نکل گئی .
( ۱۹۳۶ ، راشد الخیری ، بیلہ میں میلہ ، ۶۳ )
ابا حضور کا کنکوا رپئے ستّر ایک کی لاگت کا بیٹھتا تھا .
( ۱۹۵۴ ، اپنی موج میں ، ۱۲ )