گہ عطر میں ڈوبے ہیں گہے خون میں تر ہیں
صحبت میں مصاحب ہیں لڑائی میں سپر ہیں
گرانی ستی ہوئے کی غش کرے
وہ جب عطر جامے پہ اپنے ملے
پھولیل و عطر کے شیشے تھے بیحد
بھی شیشے تھے گلابی بونچ بیعد
طرح طرح کی سوغاتِ عطر و خوشبو وغیرہ بھیجتے ہیں، طبل و دف بجاتے ہیں.
(۱۸۱۰، اخوان الصفا ، ۱۱۵)
گِرے جو اشک مژگاں سے مرے تن سے لگالے تُو
کہ خس کا عطر ہوتا ہے سُنا رشک قمر ٹھنڈا
حوض میں گلاب کیوڑے کے فوّارے چُھٹتے، در و دیوار پر خس کا عطر چھڑکا جاتا.
(۱۹۱۳، انتخاب توحید ، حسن نظامی، ۶۰)
عطر کی یہ وہ انوکھی اور لازوال قسم ہے جو نواب ساری عمر کھپانے کے بعد بھی تیّار نہ کرسکے.
(۱۹۸۴، قلمرو، ۳۲۴)
اس سے بڑھ کر بڑھاپا دیکھا اور حق پوچھو تو تمام عمرِ انسانی کا عطر وہی ہے.
(۱۸۸۰، نیرنگ خیال ، آزاد، ۵۳)
اس میں اس کے تلخ و شیریں تجربات کا عطر ہوتا ہے.
(۱۹۳۲، روحِ تہذیب ، ۱۵)
اگر اسے سیرۃِ مبارکؐ کی ضخیم کتابوں کا عطر کہا جائے تو مبالغہ نہ ہوگا.
(۱۹۸۳، لوحِ محفوظ ، ۱۲)