جو کہ اُس کوچے میں جاوے سو معطّر ہووے
عطر بیز ایسی نسیمِ سحری رہتی ہے
کیا حلقہ ہائے زلفِ مسلسل ہیں عطر بیز
آتی ہے صاف نافۂ مشکِ خُتن کی بُو
پاڈل، نواری اور نرگس کے پھول اُبھر اُبھر کع عطر بیز ہیں.
(۱۹۲۲، انارکلی، ۱۵۷)
نہ معلوم کتنی مرتبہ موسمِ گل میں عطر بیز نسیمِ بہار نے میرے بے حِس جسم میں سنسنی ڈال دی ہے.
(۱۹۸۲، اُردو افسانہ اور افسانہ نگار، ۱۷۱)