اے دنیا کے سرگ کی اپچھری اے گنونتی گن بھری تُوں دل لائی ہے.
(۱۶۳۵، سب رس ، ۱۱۸).
لڑکی ہوئی وہ بھی ہاتھ سے چُھوٹ سرگ کو گئی.
(۱۸۰۳، پریم ساگر ، ۱۶).
سرگ تھے نکلیا چندر لعل لہو کے بھتر
سور چھپایا خنجر، چندر دِکھایا مکھن
سُرگ لفظ ہندی ہے معنی اس کے آسمان.
(۱۸۰۵ ، آرائشِ محفل ، افسوس ، ۱۵۹).
لوگ تمہارے لئے سرگ کے تارے توڑ لائیں .
(۱۹۳۵، دودھ کی قیمت ، ۱۶۹).
مارا جھون٘ٹا جب سکھیوں نے جھون٘ٹالگا سرگ میں جائے
پُروا ہوا چلے ساون کی ساری بناسپتی لہرائے