جگت سب ہلالاں سوں روشن ہوا
نگر سب نہالاں سوں گلشن ہوا
کوئی باغ نیں دنیا منے تجھ موں کے گلشن سوں سرس
کوئی پھول دسا نیں باغ میں تیرے یہ جوبن سوں سرس
دوانا سیر کر آیا ہے ایسا کون سا گلشن
کہ نقشِ پا سیں اوس کے ہے پُراز گل دشت کا دامن
ہر حرف اوس کا ایک گلدستہ بوستان ولایت کا ہے اور ہر صفحہ اس کا ایک گلشن گلستان امامت کا.
(۱۷۳۲ ، کربل کتھا ، ۳۷).
آئی بہار گلشن ، گُل سے بھرا ہے لیکن
ہر گوشۂ چمن میں خالی ہے جائے بلبل
آبرو کیا خاک اس گُل کی کہ گلشن میں نہیں
ہے گریباں ننگِ پیراہن جو دامن میں نہیں
لگی رہنے دو تم اپنی نگاہیں صحنِ گلشن پر
بڑی پُر کیف ہے میرے لیے یہ بے کلی میری
جس کا دل روشن ہے وو نور کا گلشن ہے ، جکوئی نور ہوا وہ خدا کے حضور ہوا.
(۱۶۳۵ ، سب رس ، ۱۵).
کرو تم آ کے میری چشم روشن
مرے دل کے کرو گلخن کوں گلشن
جھالر دار باریک گلشن کی شبنمی جسے دن میں مچّھر دانی کہنا موزوں ہے لگی ہوئی تھی.
(۱۹۲۹ ، بہارِ عیش ، ۳۸).