اُس نے مجکو بے وجہ روکا راستے کو طے و پے کرتا ہوا رات ہی کو قریب لشکر بادشاہ جمجاہ پہونچا.
(۱۹۰۱ ، طلسمِ نوخیز جمشیدی ، ۲ : ۱۰۲)
غرض یہ کہ ہر طرح سے لیس ہو تلاشِ معشوقۂ بدیع الزماں میں روانہ ہوئے اور راستہ طے و پے کرتے چلے جاتے ہیں.
(۱۹۴۳ ، دِلّی کی چند عجیب ہستیاں ، ۶۲)