صحن اس کا موتیاں سوں بھریا جون تاریاں سون گگن.
(۱۶۳۵، سب رس ، ۶۵).
زمین صحنِ مبارک یہاں تلک ہے صاف
نگاہ کیجے تو فلسِ سمک تلک ہوشمار
مسجد کے صحن میں ... پچھتر لڑکے پڑھ رہے ہیں.
(۱۸۸۳، مکمل مجموعۂ لیکچرز و اسپیچز، ۱۸۵).
اس مکان کے صحن میں دہلی کے شہزادے کا قبرستان بھی تھا.
(۱۹۱۳، انتخاب توحید، ۶۴).
ابھی وہ صحن میں سلاد کے بوٹے ٹھیک کر رہی تھی.
(۱۹۸۶، اوکھے لوگ، ۱۶).
راتے نین سرنگ اس دوست جیوں ترنگ ہیں
کرتے اپس میں جنگ ہیں مکھ نور کے صحن میں
سوریج ہے درپن تیرا انبر صحن انگن ترا
گھر لامکاں مسکین ترا تج بن نہیں کوئی یا علی
صحنِ گلزار میں کیا کام ہے صحرائی کا
جائے گل حیف یہاں خار بیاباں نہ
صحنِ صحرا کو سدا اشک سے رکھنا چھڑکاؤ
بس دوانہ ہوں میں قائم تری مرزائی کا
زرد رو تھا وقتِ پرسش پر رہا سرسبز میں
فرشِ استبرق مجھے صحنِ قیامت ہوگیا
اس اسیری میں بھی ہر سانس کے ساتھ آتی ہے
صحنِ زنداں میں انہیں دشتِ وطن کی خوشبو
قدیم زمانے میں ایک قسم کا عمدہ ریشمی کپڑا.
پاجامہ صحن کا پاون میں، بینجنی دوپٹہ چوٹکی سے چنا ہوا کندھے پر پڑا ہوا.
(۱۸۴۵، حکایات سخن سنج، ۷۱).