دایہ شہزادے کو گود میں لیے کھلاتی، تھپکنا اس کا ہاتھوں ہاتھ لوری کے ساتھ سُلانا.
(۱۸۴۵، حکایتِ سخن سنج ، ۶) .
بچہ سو گیا تھا لوری ختم نہ ہوئی تھی.
(۱۹۱۲، شہیدِ مغربِ ، ۱۰) .
ایسا کوئی نہیں ہے جسے وہ رات کے وقت لوریاں سُنا سُنا کر سُلائے.
(۱۹۳۶، پرم چند ، پریم پچیسی، ۱: ۲۸) .
فلسطینی بچّوں کی لوری بھی بھی اسی طرح ایک ایک نظم ہے.
(۱۹۸۸، آج بازار میں پابہ جولاں چلو، ۱۱۶) .