بھابھی کا بولائے جانا بچّی کا وہ حال دیکھ
لوری دینا اور گھبرا کر تھپکنا دیکھیے
سنو نالے ہمارے عندلیبِ خوشنوا ہیں ہم
چمن میں طفلِ گل کو لوریاں دی ہیں ترنّم سے
ہوا کے خاموش ہاتھ اس کو لوریاں دے رہے ہیں.
(۱۹۲۹، آمنہ کا لال ، ۴۴) .
حافظ کی سرمستی لوریاں دے کر سلاتی ہے.
(۱۹۹۳، نگار، کراچی، اپریل، ۴۵) .