کبھو لطف سے نہ سخن کِیا ، کبھو بات کہہ نہ لگا لیا
یہی لحظہ لحظہ خطاب ہے وہی لمحہ لمحہ عتاب ہے
وہ لحظہ لحظہ تفقد وہ دم بدم الطاف
رضائے خاطرِ یارانِ جاں فشاںکے لیے
لحظہ بہ لحظہ ، دمبدم ، جلوہ بہ جلوہ آئے جا
تشنۂ حسنِ ذاتِ ہوںِ تشنہ لبی بڑھائے جا
اَینا .. ابھی تک خاموش تھی ، جرمنوں کی آواز لحظہ بہ لحظہ بلند ہوتی جا رہی تھی.
(۱۹۸۸ ، نشیب ، ۱۲۵ ).