اس محراب کو حقیقت کا محراب ہور قبولیت کا محراب بولتے ہیں.
(۱۴۲۱ ، بندہ نواز ، شکار نامہ ، ۵).
اوس کی دعا کا تیر قبولیت کے نشانے پر درست بیٹھا.
(۱۸۰۳ ، گنج خوبی ، ۸۲).
صالحہ بہن خبر نہیں وہ کونسی قبولیت کی گھڑی تھی جو صبح اٹھتے ہی تم میں دھیان جا پڑا.
(۱۹۱۰ ، لڑکیوں کی انشا ، ۴۴).
سخن تیرے پہ ہر اک ہے جو مصروف
قبولیّت پہ ہے یہ بات موقوف
امیر لوگ روپے اشرفیاں خرچ کرکے قبولیت نہیں حاصل کرسکتے.
(۱۹۱۶ ، میلاد نامہ ، ۲۲).
یہ بہت جلد قبولیت کا درجہ حاصل کرنے لگتی ہے.
(۱۹۸۵ ، اُردو ادب کی تحریکیں ، ۵۳).
ہر حکم خود بندے کوں چارہ نہیں کی یوں یا ووں بندہ قبولیت میں اچھنا.
(۱۵۸۲ ، کلمۃ الحقائق ، ۸۱).
اصول کی حمایت میں کوئی دلیل نہیں لائی تاہم وہ غلط اصولوں کی قبولیت کا موجب ہے.
(۱۹۶۳ ، اُصولِ اخلاقیات (ترجمہ) ، ۵۷).
کاشتکار کی طرف سے ایک قبولیت لکھی جاتی ہے اور مالگزار کی طرف سے ایک پٹہ ہوتا ہے.
( ۱۸۴۵ ، پٹواری کی کتاب ، ۵ ).
قبولیت میں کچھ لکھا پٹے میں کچھ اور ہے.
( ۱۸۶۱ ، فسانۂ عبرت ، ۵۰ ).
یہ تمام علاقہ ... مقاطعہ پر لے لیا تھا اور قبولیت کی تحریر ... دے دی تھی .
( ۱۹۶۹ ، تاریخِ فیروز شاہی (معین الحق) ، ۶۹۵ ).