سرافراز سب کوں کرنہار توں
کہ دھرتا میا ہور دھرنہار توں
کرن ہار امرات کوں شرمندہ عشق
دھرے ناؤں سو جگ میں نت زندہ عشق
(۱۶۵۷،گلشن قشق، ۳۴).
اے کفر کوں کرنہار پانال
اسلام کے لام کی اُچا ڈھال
(۱۷۰۰، من لگن ، ۱۴).
گرچہ ناکارہ نا چیز ہوں پر تیرا ہوں تو ہے معبود میرا
بندہ تیرا ہوں میرا پیدا کرن ہار ہے تو رکھیّو رحمت کی بگاہ
(ٖ۱۸۷۹، دیوان عیش دہلوی ،۱۵۲).
الہی کیرم کا ک]رن ہار توں
ہے اوّل و آخر رہن ہار توں
کہ اے اس بچیاں تے جو ہے تو دکھی
کرنہات ہوں میں تجے ئی سکھی
(۱۶۳۹، طوطی نامہ ،غواصی ،۱۳۷).
ایک جگہ ہار لگا کر مُرکب بنایا ہے یہ دکنی میں عام ہے لیکن شمال کی زبان میں اس کا استعمال کم ہے : ,, حکم تب ہوا اس کرن ہار کا ،،
(۱۶۸۸، عاشور نامہ(تاریخ ادب اردو ،۲ ، ا : ۵۸)).
اوّل تعریف سن خالق کی اے یار
کہ وے دونو جگت کا ہے کرن ہار
(۱۷۹۷، یوسف زلیخا (ق)، ۲).
کروں یاد اول پاک کا
کرنہار صاحب جو افلاک کا
(۱۸۵۲، قصۂ قاضی و چور ، ۸۱).