رو کر خجل ہوئے رسنِ زلف کے اسیر
بھیگا جو آنسوؤں سے تو بند اور کس گیا
ساز کے تار بہت کس جاتے تو کیا ان سے کوئی سُر نکلتا تھا.
(۱۹۵۱، تاریخ تمدن ہند، ۱۲۹).
اس کی کنپٹیوں میں دھمک سی ہونے لگی، آنکھوں کے ڈھیلے نہ جانے کیا کیا دیکھتے دیکھتے کس گئے.
(۱۹۵۸، میلہ گھومنی ، ۵).
خراب مٹاپا جاتا رہا اور بدن کس گیا.
(۱۸۸۹، سیر کہسار، ۱ : ۱۰).