قافلہ سالار انا مدینۃ العلم و علی بابہا ، نامدارِ انا میزان الحمکۃ و علی لسانہا.
( ۱۷۳۲ ، کربل کتھا ، ۲۷ ).
آنکھیں کہاں رہیں جو رواں ہوں یہ طفلِ اشک
اس کارواں کے قافلہ سالار مر گئے
خبر اے قافلہ سالار لے جلد اس مسافر کی
کہ تھک کر رہ گیا جو صعف سے رنجور پیچھےہے
( ۱۸۴۵ ، کلیات ظفر ، ۲۹۷ ).
رانڈوں کی اور یتیموں کی غمخوار ہو تو تم
اب میرے بعد قافلہ سالار ہو تو تم
( ۱۹۲۷ ، شاد عظیم آبادی ، مراثی ، ۲ : ۱۳۱ ).
حضرت امام حسین علیہ السلام عاشقانِ صادق کے قافلہ سالار تھے.
( ۱۹۶۹ ، اقبال اور حُبِ اہل بیت ، ۱۹۸ ).