سوں کے کیرے منطق منے صورت (معانی علم ہے)
مطول نکر شوقی غزل ہے (قافیہ تجہ مختصر)
بچن روپ ہو شاہ درمیان آئے
کھڑے رہ تو کاں قافیے جوڑ پائے
کہہ قافیہ بدل کے محبت غزل اک اور
لیکن یہ شرط ہے کہ تامل نہ کیجیو
فصاحت کے خلاف آئے نظر سب قافیے ہم کو
نسیم ایسی زمیں پر کیجیے اطلاق بیہڑ کا
غزل اور رباعی کے لیے قافیے کی شرط تو لازمی ہے اگر ردیف بھی بڑھا دی جائے تو سخن میں اور بھی لطف بڑھ جاتا ہے.
( ۱۹۳۴ ، اقبال نامہ ، ۱ : ۲۷۹ ).
آنے اور پانی ... طفل اور عقل کو بطور قافیہ استعمال کیا ہے.
( ۱۹۸۲ ، تاریخ ادب اردو ، ۲ ، ۱ : ۵۹ ).