باندیا مکرّر قافیے کئی بار میں صنعت بدل
تاریخ کر تحسیں کرے یو منقبت جو کوئی پڑے
( ۱۶۷۲ ، شاہ سلطان ثانی ، ک ، ۱۲۰ ).
میاں صاحب یہ اچھا قافیہ تھا ڈھونڈ کر باندھا
کمر ہے یار کی با بَل پرا ریشم کی لچھی کا
( ۱۸۶۱ ، کلیات اختر ، ۱۶۰ ).
اکثر استادوں نے عربی کے جب لفظوں کے اخیر میں ذال ہے انہیں دال والے لفظوں کے ساتھ قافیہ باندھا ہے.
( ۱۸۸۹ ، جامع القواعد ، آزاد ، ۲۵۷ ).
میں آپ کی ملاش قافیہ کا جب قائل ہوں جب آپ میرے نام کا قافیہ باندھیں.
( ۱۹۴۳ ، حیات شبلی ، ۷۴۴ ).