اس عقل کا بھی شاہد سو توں ، جوں کی کشتی پر کا دید بان اچھتا
(۱۵۸۲ ، کلمۃ الحقائق ، ۳۸)
محبت پیو کا منج کوں برہ دریا میں کشتی ہے
اس اوپر عشق بازاں میں منجے دستور کر ساقی
(۱۶۱۱ ، قلی قطب شاہ ، ک ، ۲: ۲۹۵)
مرا دل اشک ہو پہنچا ہے کوچے میں سری جن کے
گیا کعبے میں یہ کشتی سوار آہستہ آہستہ
(۱۷۰۷ ، ولی ، ک ، ۱۷۶)
سرپٹکتے رہ گئے ساحل سے ہم مانندِ موج
اور اغیار اس کو کشتی میں بٹھا کر لے گئے
(۱۸۰۹ ، جرأت ، ک ، ۱۷۶)
سبھی سے خلق ہے خواجہ معین الدین چشتی کا
وہ ہے خلقِ خدا کا دوزخی کا اور بہشتی کا
مذاق اعجازِ خواجہ سے چلاؤں ناؤ خشکی میں
زمینِ شعرِ تر میں قافیہ لاؤں میں کشتی کا
(۱۸۹۴ ، کلام دلدار علی مذاق ، ۱۸۸)
ہزاروں ماہی گیر اپنی دخانی کشتیوں میں جنہیں ٹرامر یعنی جال کش کہتے ہیں شکار کرنے آتے ہیں
(۱۹۳۴ ، جغرافیہ عالم ، ۱۱۲)
حکم کی دیر تھی کہ موجوں کا ایک ایسا تھپیڑا آیا کہ کشتی ٹکڑے ٹکڑے ہوگئی
(۱۹۸۵ ، روشنی ، ۳۳۷)
۲. کشتی نما ظرف ، کشتی کی طرح کا برتن ، شراب پینے کا کشتی نما پیالہ ، جامِ شراب
بحرِ غم سے نکال اے ساقی
ایک کشتی میں پار ہوتے ہیں
(۱۷۷۳ ، دیوان زادہ حاتم (ق) ، ۱۶۹)
کشتی ہر اک فقیر کی بھر دی شراب سے
اس دور میں کلال عجب مرد ہوگیا
(۱۸۱۰ ، میر ، ک ، ۳۹۳)
نیشہ باز لوگ اٹھتے ہی گانجہ ملنے لگے ، کشتی بوتل شراب کی سامنے رکھی ہے
(۱۸۹۱ ، طلسم ہوشربا ، ۵ : ۸۰۰)
۳. سر میں تیل ڈالنے کی کشتی نما پیالی ، تیل پھلیل کی پیالی
کشتی میں کپی تیل کی انّا انڈیل ڈال
سوکھے ہیں بال آکے مرے سر میں تیل ڈال
(۱۸۳۵ ، رنگین ، د ، ۳۸)
۴. کسی بھی دھات شیشے یا لکڑی کی مستطیل یا بیضوی شکل کی ٹرے
کشتی سونے کی اک منگ کرتب
گہنے بھجوائے واں جڑاؤ سب
(۱۷۹۱ ، حسرت (جعفر علی) ، طوطی نامہ ، ۶۴)
گیارہ کشتیاں سر بہ مہر زر بفت کے تورہ پوش پڑے ہوئے غلاموں کے سر پر دھرے باہر آیا
(۱۸۰۲ ، باغ و بہار ، ۳۰)
توشے خانے والیاں جوڑوں کی کشتیاں لے کر خاصر ہوئیں
(۱۸۸۵ ، بزم آخر ، ۳۲)
بادشاہ سلامت کے سامنے آموں کی کشتیاں پہنچیں
(۱۹۴۷ ، فرحت ، مضامین ، ۳: ۲)
وہ چپراسی کیا کرے جسے اس کا افسر رمضان میں چائے کی کشتی لانے کا حکم دیتا ہے
(۱۹۸۴ ، طوبیٰ ، ۵۰۵)
۵. کاسۂ گدائی جو کشتی نما ہوتا ہے ، کشکول
ہے بحر اس کے سامنے کشتی بکف گدا
پھرتا صدف ہے کھولے ہوئے لب سوال کے
(۱۸۵۴ ، ذوق ، د ، ۲۹۹)
کشتی ضرور ساتھ رہے تیرے اے فقیر
ڈوبے نہ قلزمِ کرمِ بادشاہ میں
(۱۸۷۲ ، مرآۃ الغیب ، ۱۷۳)
۴. (معماری) وہ تختہ یا پیٹی جو دیوار یا دروازے کے چوبی حاشیے پر جڑی ہو ، کواڑ کے نیچے کا بڑا تختہ یا فریم ، چوکٹا.
کچھ حصّے میں پیچدار بل دیئے جاتے ہیں یا خوبصورت کشتیاں (دلہے) بنائی جاتی ہیں
(۱۹۱۷ ، رسالہ تعمیرِ عمارت ، ۴۸)
۷. (کُتب خانہ) کشتی سے مشاہد لکڑی وغیرہ کی ٹرے جس میں تریب سے کارڈ سلاخ میں پرو کر لگائے جاتے ہیں ، کارڈ رکھنے کی ٹرے
کشتی میں جتنے بک کارڈ جمع ہوں ان کو مضمون وار چھانٹ کر روزنامہ اجرأ کتب تیار کرلیا جائے
(۱۹۶۱ ، انتظام کتب خانہ ، ۴۹)
[ف]
اہم اطلاع
اردو لغت بائیس ہزار صفحوں پر مشتمل ، دو لاکھ چونسٹھ ہزار الفاظ کا ذخیرہ ہے . اسے اردو زبان کے جیّد اساتذہ نے 52 سال کی عرق ریزی سے مرتب کیا ہے .
زیر نظر ویب سائٹ انسانی کاوش ہے لہذہ اغلاط کے امکانات سے مبرا نہيں ، آپ سے التماس ہے کہ اغلاط کی نشان دہی میں ہماری معاونت فرمائیں .
نشان دہی کے لیے ہماری ویب سائٹ پر رابطہ کے ان باکس میں اپنی رائے سے آگاہ کریں .