جناں ناک اونچی کرے پاؤ بل
ہیاں بھوت کیہوں مرے گھاؤ تل
دیکھنے کو تو آنکھیں دیں اور سننے کو یہ کان دیے ، ناک بھی اُونچی سب میں کر دی ۔
(۱۸۰۳ ، رانی کیتکی ، ۲) ۔
بیوی بچوں کی وجہ سے آدمی اکثر اپنے نفس پر قابو چھوڑ بیٹھتا ہے ، بچے کھائیں بیوی کھائے جس طرح بھی آئے مال لے لو ، بچے پہنیں گے اوڑھیں گے بیوی اپنی سہیلیوں میں ناک اُونچی کر کے چلے گی ۔
(۱۹۷۸ ، روشنی ، ۳۵۲) ۔
