جو کوئی منگتی اس سوں نخرے ناز ، اس سوں بات بولنے جیو نہیں ہوتا اس سوں واز ۔
(۱۶۳۵ ، سب رس ، ۲۰۳) ۔
کچھ ہنسی بیٹھی پھیر تیوری چڑھا
لال بولی کہ اے ترا نخرا
سامری نے یہ باتیں اُنھیں لکھی ہیں نجومیوں نے اپنا کمال دکھایا ہے ہر سال نیا نخرا لکھتے ہیں ۔
(۱۸۹۲ ، طلسم ہوشربا ، ۶ : ۵۸۴) ۔
رہے مسائل اخلاق و معرفت سے کام
نہ یہ کہ طائفہ داروں کا نظم ہو نخرا
نخرا ۔۔۔۔۔ یہ لفظ ہمارے یہاں ناز کے ساتھ ’’ ناز نخرا ‘‘ کے مرکب میں بھی بولا جاتا ہے اور غرور و تبختر کے معنی دیتا ہے ۔
(۱۹۸۸ ، اردو ، کراچی ، جولائی تا ستمبر ، ۱۰۰) ۔