آنسو آنکھوں میں پر پئے جاؤں
وے کہیں کچھ تو ہاں کیے جاؤں
کہاں تک دم بخود رہئے نہ ہوں کیجیے نہ ہاں کیجئے
کہاں تک کھائیے غم کب تلک ضبط فغاں کیجئے
(۱۸۵۱ ، مومن ، د ، ۲۲۵) ۔
میں نے تو ہاں کر لی ۔
(۱۸۹۵ ، حیات صالحہ ، ۳۲) ۔
میں نے ہاں کر دی ہے
(۱۹۵۷ ، پہلی کہانیاں ، ۱۴۴) ۔
ایک دن اس نے ہاں کر دی ، فاطمہ کی شادی خیر دین سے ہو گئی ۔
(۱۹۸۷ ، خاک کا ڈھیر ، ۳۰) ۔
وہ لڑکی جو نکاح کے وقت سوکن کا علم ہونے پر ہاں کر لیتی ہے مرد سے کم ذمہ دار نہیں ۔
(۱۹۲۸ ، عالم نسواں ، ۳۶) ۔