نیزہ (رک)کی جمع نیز مغیرہ حالت ؛ تراکیب میں مستعمل ؛ (مجازاً) بہت زیادہ ، کثرت سے ، بے تحاشا ۔
پھل چمکے کہ سیماب کنویں سے اوبل آیا
پھر جوش پہ نیزوں ہی محیط اَجل آیا
(۱۸۷۵ ، دبیر ، دفتر ماتم ، ۲ : ۲۴) ۔
زہرہ ہے آب ڈر سے ہر اک ذی حیات کا
نیزوں گھٹا ہے خوف سے پانی فرات کا
(۱۹۴۲ ، خمسہء متحیرہ ، ۳ : ۴۰) ۔
[نیزہ (رک) کی جمع]
اہم اطلاع
اردو لغت بائیس ہزار صفحوں پر مشتمل ، دو لاکھ چونسٹھ ہزار الفاظ کا ذخیرہ ہے . اسے اردو زبان کے جیّد اساتذہ نے 52 سال کی عرق ریزی سے مرتب کیا ہے .
زیر نظر ویب سائٹ انسانی کاوش ہے لہذہ اغلاط کے امکانات سے مبرا نہيں ، آپ سے التماس ہے کہ اغلاط کی نشان دہی میں ہماری معاونت فرمائیں .
نشان دہی کے لیے ہماری ویب سائٹ پر رابطہ کے ان باکس میں اپنی رائے سے آگاہ کریں .