ٹھنڈی سانس بھر کر بول اُٹھا ۔۔۔۔۔ ہرچہ مرضی مولیٰ برہمہ اولیٰ ۔
(۱۸۴۷ ، حملات حیدری ، ۶۰۷) ۔
بندے کو صابر و شاکر رہنا چاہیے ، مرضی مولیٰ از ہمہ اولیٰ ۔
(۱۸۹۷ ، کاشف الحقائق ، ۲ : ۵۲۳) ۔
آج کی تمام رات سکرات کی سی تکلیف میں بھی بسر ہوئی ، مرضی مولا از ہمہ اولیٰ۔
(۱۹۲۴ ، روز نامچہء حسن نظامی ، ۱ : ۱۴۰) ۔
ہمیشہ ہوتا وہی ہے جو خدا چاہتا رہے ، مرضی مولیٰ از ہمہ اولیٰ ۔
(۱۹۹۴ ، صحیفہ ، لاہور ، اپریل ، جون ، ۴۹) ۔