اگر مدعی کا حق مدعیٰ علیہ پر ثابت ہووے ۔۔۔۔۔ تو پہلے قاضی حکم کرے مدعیٰ علیہ کو ادائے حق کا ۔
(۱۸۶۷ ، نورالہدایہ ، ۳ : ۶۶) ۔
اکثر مقدمات میں جو مجسٹریٹ کے سامنے پیش ہوتے ہیں مدعیٰ علیہ کی طرف سے کوئی وکیل نہیں ہوتا ۔
(۱۸۹۲ ، میڈیکل جیورس پروڈنس ، ۴) ۔
صرف مدعیٰ علیہ کو مدعی کے حقوق کی خلاف ورزی سے ممانعت کی جاتی ہے ۔
(۱۹۴۵ ، مبادی قانون فوجداری (ترجمہ) ، ۱۷) ۔
اگر مقدمہ خرچ سے متعلق ہے تو اس کی حیثیت مدعیٰ علیہ کی ہوتی ہے ۔
(۱۹۷۱ ، اُردو دائرۂ معارفِ اسلامیہ ، ۵ : ۲۰۱) ۔