شاعر کے ہونٹوں پر ایک سرشار مسکراہٹ کھیلنے لگی ۔
(۱۹۴۲ ، سیلاب و گرداب ، ۹۸) ۔
امید کی دیوی کی آنکھوں میں مسکراہٹ کھیلنے لگی ۔
(۱۹۵۸ ، خون جگر ہونے تک ، ۱۲۰)۔
اس وقت نہ تو ان کے لبوں پر مسکراہٹ کھیلی نہ ان کی آنکھوں میں رقص پیدا ہوا ۔
(۱۹۸۳ ، نایاب ہیں ہم ، ۶۱) ۔