جوں کرنی سو کر میں تو رضا مند ولے سوں
ارزاں ہت ترا لب کا گراں قند نکو کر
گر خریدار ملے کوئی متاع دل کا
بیچ ڈالیں اسے ارزاں ہی سے ارزاں ہم تم
اس نے ضروریات زندگی کو ارزاں بنایا.
(۱۹۵۸ ء ہندوستان کے عہد وسطی کی ایک جھلک ، ۱۵۴)
رہنمائوں کا نہیں اگلا سا قحط
اب تو لیڈر سخت ارزاں ہو گئے