ترے سچہ پنے کی صفت ہوئی سو زور
پڑیا قعرِ دریا کی جا تن میں شور
اوس ماہرو کا زور ہی جھلکے ہے گوشوارا
کیا چاند کے گھر آیا اب مُشتری کا تارا
میری آنکھوں نے لگا دی زورِ ساون کی جھڑی
ہجر کی شب چرخ پر گھنگور بادل دیکھ کر
شیوہ ہے یہی نازکی و شرم تو صاحب
کس زور پہ کہتے ہو کہ بیداد کریں گے
برسوں پہلے اپنی کامیابی کا عِلم ہوا تو کیوں کر ہوا اپنی عقل کے زور سے ہوا .
(۱۹۰۷ ، اجتہاد ، ۸۶)
ہوا زور کُشتی میں میلے میں ور
سکیا تیر نیزے کرے سب ہنر
ہوا شہر میں سارے یکبار شور
فلانے فلانے کی اُلفت ہے زور
میرے دلِ شِکستہ کو کہتی ہے دیکھ خلق
کیا زور آئنہ ہے یہ ہووے اگر درست
[ف : زور ؛ پہلو : زوار ؛ (قدیم) ف : زُر]
