ہر ایک جگہ اپنا زور مت آزما کہ شاید کوئی زبردست مِلے .
(۱۷۴۶ ؟ ، قِصّۂ مہر افروز و دِلبر ، ۳۵۷) .
جذبِ دل زور آزمانا چھوڑ دے
پائے نازک کا ستانا چھوڑ دے
یاں زور آزماؤ
نصرت کے گیت گاؤ
جن میں سوائے پادشاہوں شاہزادوں اور امیروں ... اور زور آزماؤں کے واقعات کے اور کُچھ نہیں ہوتا .
(۱۹۵۹ ، برنی (سیّد حسن) ، مقالاتِ برنی ، ۶۵) .
