سب نے صلاح کرکے ایک ایلچی مالک ابن زغرکے پاس بھیجا .
(۱۸۴۵ ء احوالِ انبیاء ،۳۳۹:۱)
وہ پیامبر جو آنحضرت صلعم اور خدا کے درمیان وحی کا ایلچی تھا وہ یہی جبرئیل تھا.
(۱۹۲۳ ء سیرۃالنبی ،۳۱۰:۳)
ہر ملک کے بادشاہوں کے ایلچی مبارک باد کی خاطرجو آئے تھے وہ بھی سب حاضر تھے .
(۱۸۰۲ ء باغ وبہار ، ۱۱۷).
موجود وہاں ایلچی ملک عجم ہے
بیٹا یہ خجالت مرے مرجانے کو کم ہے