موئے اس رشک میں ہم تو کہ جو ہے اس کے کوچے میں
پریشان بے سروپا غمزدہ آوارہ حیراں ہے
لیے کمر پہ گناہوں کا اپنے پشتارہ
فضا میں جس کی ابھی تک ہے روح آوارہ
خبر لے پیر کنعاں کی کہ کچھ آج
نپٹ آوارہ بونے پیرہن ہے
اس کا مقصد چیمبر کو آوارہ (Stray) اور پراگندہ شعاعوں سے محفوظ رکھنا ہے.
(۱۹۷۰، جدید طبیعیات، ۳۰۸)
سامان عیش سب کا سب آوارہ ہو گیا
نوبت سحر کی کوچ کا نقارہ ہو گیا
دیکھتی ہو اس آوارہ بدمعاش کو.
بہوت دیس سیں گھرتے آوارہ ہیں
پریشان و دل تنگ و بے چارہ ہیں
پڑا ہے اس میں وہ بے جاں وطن سے ہو کے آوارہ
کہ جس کو فاطمہ نے بر میں پیغمبر کے پلوایا
جس طرح صحرائے افریقہ کا آوارہ کوئی
یا عرب کی منزلوں کا جس طرح مارا کوئی
ایک اور دالان بے چھت سہ درہ آوارہ پڑا ہے.
(۱۸۶۴، تحقیقات چشتی، ۶۷۴)
یکٹ جائے گا شہر کو شاہ کیوں
حشم بن چلے گا سو آوارہ کیوں