خَمُش سودا و گرنہ یاں بہائے جائینگے نالے
ہوے ہیں اولتی مژگان خلق اور چشم پر نالے
سبزہ روئیدہ ہے ہر جا گھر زمرد پوش ہے
بن گئی ہے اولتی سلک گہر برسات میں
چڑیاں آنگن میں پھدکنے لگیں کوئی اولتی پر بیٹھی کوئی چبوترے پر.
( ۱۹۳۶ ، پریم چند ، پریم چالیسی ، ۲ : ۱۲۹ )